کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قرآن کی تفسیر کو بغیر وضو کے چھونا جائز ہے یا نہیں؟ نیز تفاسیر کو لیٹ کر پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟
کتبِ تفسیر کو بلاوضو چھونا یا لیٹ کر پڑھنا بے ادبی کی بناء پر مکروہ ہے، لہٰذا اس سے احتراز چاہیۓ، البتہ اگر کوئی عذر ہو تو ایسا کرنے کی گنجائش ہے۔
فی الفتاوى الهندية: ويكره لهم مس كتب التفسير والفقه والسنن ولا بأس بمسها بالكم. هكذا في التبيين. (1/ 39)۔
وفی المدخل إلى السنن الكبرى للبيهقي: أن رجلا جاء إلى سعيد بن المسيب، وهو مريض فسأله عن حديث، وهو مضطجع فجلس فحدثه فقال له الرجل: وددت أنك لم تتعن فقال له: إني كرهت أن أحدثك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا مضطجع اھ(ص: 392)۔