کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بسا اوقات جامعہ میں پانی کی قلت کی وجہ سے ساتھ والی بریلوی مسجد میں وضو کرنا پڑتا ہے، مگر وہ حضرات یہ کہتے ہوئے منع کرتے ہیں کہ جب وضو یہاں کرتے ہو تو نماز بھی یہاں پڑھو، ورنہ یہاں وضو نہ کرو، تو کیا ایسی صورت میں ان کے ساتھ منہ ماری کرنا جائز ہے یا نہیں؟ یہ حکم ہمارے اوپر صادق آتا ہے کہ ’’فان لم تجدوا ماءً فتیمّوا صعیداً طیباً‘‘، نیز اوقاتِ سبق میں اگر دیر ہو جائے تو اساتذہ کرام کے طرف سے تہدید کی جاتی ہے کہ کیوں دیر سے آئے ہو؟ تو ان دونوں شقوں کا دل نشین جواب عنایت فرما کر ممنون فرمائیں۔
کسی مسجد میں وضو کر کے وہیں نماز پڑھنا شرعاً لازم نہیں اور منہ ماری سے بہر حال احتراز بھی لازم ہے، نیز ایسی صورت میں پانی قریب ہونے کی وجہ سے تیمم بھی جائز نہیں، اگر پانی نہ ملنے کی صورت میں نماز تاخیر سے پڑھ لی جائے اور اسی وجہ سے اسباق میں تاخیر بھی ہو جاتی ہو تو یہ عذر اساتذہ کرام کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے اُمید ہے، اساتذہ کرام اس معقول اور شرعی عذر کی وجہ سے سرزنش وغیرہ بھی نہ کریں اور اساتذہ کو بھی ان امور کا خیال چاہیۓ۔
فی الهدایة: وإن غلب علی ظنه ان هناك ماءٌ لم یجز له أن یتیمم حتی یطلب اھ(۱/۳۲)۔
وفي اللباب في شرح الكتاب: فإن غلب على ظنه أن هناك ماءً لم يجز له أن يتيمم حتى يطلبه اھ(ص: 17)۔