وضو

ماہواری میں ایک دن کے وقفہ سے پانچ دن خون آنے کا حکم

فتوی نمبر :
59387
| تاریخ :
2002-03-01
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

ماہواری میں ایک دن کے وقفہ سے پانچ دن خون آنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت کو عام طور پر ماہانہ ایک دن ایک رات خون آتا ہے، پھر بند ہو جاتا ہے اور ایک دن اور ایک رات کے بعد دوبارہ تین دن اور تین راتوں تک مسلسل خون آتا ہے اور بند ہو جاتا ہے،اب پوچھنا یہ ہے کہ آیا مذکورہ عورت کے لۓ اس صورت میں شرعاً کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اس صورت میں یہ پانچوں دن حیض شمار ہوں گے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الفتاوى الهندية: الطهر المتخلل بين الدمين والدماء في مدة الحيض يكون حيضا اھ(1/ 36)۔
وفی حاشية ابن عابدين: ثم اعلم أن الطهر المتخلل بين الدمين إذا كان خمسة عشر يوما فأكثر يكون فاصلا بين الدمين في الحيض اتفاقا فما بلغ من كل من الدمين نصابا جعل حيضا اھ(1/ 289)۔
وفی الفتح: الطهر إذا تخلل بين الدمين في مدة الحيض فهو کالدم المتوالی اھ(۱/۳۶۱)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59387کی تصدیق کریں
0     775
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات