کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری والدہ صاحبہ کو کسی بیماری کی وجہ سے ڈاکٹر صاحب نے بائیں پیر میں مسلسل موزہ پہننے کو کہا ہے تاکہ خون کی گردش یکساں رہے، موزہ اتارکر پیر کو دھونا یا اس پر مسح کرنا پیر کیلئے انتہائی مضر اور باعث تکلیف ہے جس سے درد میں شدت اور چلنے میں دقت ہوتی ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسی صورتحال میں موزہ کے اوپر مسح کرنا وضو اور غسل میں شرعاً جائز ہے یا نہیں؟بینوا توجروا
اگر واقعۃً موزہ اُتارکر پاؤں دھونے یا مسح کرنے سے ناقابلِ برداشت تکلیف ہوتی ہو یا تکلیف بڑھنے کا قوی اندیشہ ہو تو اس صورت میں پورے موزہ پر مسح کرنا جائز اور درست ہے اور اس طرح مسح کرنے سے وضو اور غسل دونوں درست ہوجائیں گے۔
فی الہندیۃ: وإنما یمسح (علی الجبیرۃ) إذا لم یقدر علی غسل ما تحتہا ومسحہ بأن تضرر بإصابۃ الماء أو حلہا آھ۔ (ج۱، ص۳۵)-