کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا تعلق سنی العقیدہ حنفی المسلک خاندان سے ہے گزشتہ دو سال سے تعلیم کے سلسلہ میں لندن میں رہائش پذیر ہوں، ایک سلفی خاندان سے تعلق رکھنے والی لڑکی کے متعلق بات (شادی کی) چلائی جارہی ہے، مجھے سلفیت کے بارے میں کچھ معلومات نہیں، براہِ کرم میری رہنمائی فرمائیں کہ ایسی لڑکی میرے لئے مناسب ہے؟ وضاحت فرمائیں، اس نے اپنے عقائد کے متعلق معلومات لینے کیلئے درجِ ذیل ویب سائٹ کا ایڈریس دیا ہے۔
www.salafipublications.com / www.albaseerah.org
سوال میں مذکور فرقہ سلفی کے متعلق جہاں تک ہماری معلومات ہیں، اہل السنت والجماعت اور ان لوگوں میں بہت سے اصولی و فروعی اختلافات ہیں، یہ لوگ خدا تعالیٰ کو عرش پر بیٹھا ہوا مانتے ہیں، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو میعارِ حق نہیں مانتے، اسلافِ امت خصوصاً ائمہ اربعہ علیہم الرحمۃ پر سبّ و شتم اور ان پر طعن و تشنیع ان کا وتیرہ ہے اور ان کی تقلید کو جس کے وجوب پر امت کا اجماع ہوچکا ہے ناجائز اور بدعت بلکہ بعض تو شرک تک کہہ دیتے ہیں، بہت سے اجماعی مسائل کے منکر ہیں، صحابہ کرام کا ۲۰؍ رکعت تراویح کے سنت ہونے پر اجماع ہے جبکہ یہ لوگ اسے بدعتِ عمری قرار دے کر سرے سے رد کردیتے ہیں، جمعہ کی پہلی اذان کو بدعتِ عثمانی کہتے ہیں، ایک مجلس میں تین طلاق کا وقوع جو احادیثِ صحیحہ سے ثابت اور جس پر صحابہ و جمہور علماء کا اجماع ہے انکار کرتے ہیں اور ایک طلاق کا فتویٰ صادر کرکے زناکاری وبدکاری میں مبتلا کرتے ہیں اور ان میں سے بعض چار سے زیادہ عورتوں سے نکاح کو جائز کہتے ہیں۔
لہٰذا مذکورہ عقائد رکھنے والی لڑکی سے نکاح اگرچہ جائز ہے لیکن تجربہ اس بات پر شاہد ہے کہ جو آدمی اس قسم کے عقائد رکھنے والوں کے ساتھ اُٹھنا، بیٹھنا، مواکلت و مشاربت و مناکحت دواماً اختیار کرتا ہے تو اس کے اندر بھی سلفِ صالحین پر بداعتمادی اور ان پر طعن و تشنیع جیسے زہریلے جراثیم سرایت کرجاتے ہیں نتیجہ یہ کہ آدمی اپنے دین سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے، لہٰذا سائل کے لئے مذکورہ عقائد رکھنے والی لڑکی سے نکاح ہرگز ہرگز مناسب نہیں بلکہ اہل السنت والجماعت کے عقائد کے ساتھ وابستہ خاندان میں نکاح کی کوشش چاہئے۔ واﷲ اعلم بالصواب