السلام علیکم
محترم مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ میرے والد صاحب نے میری والدہ کو ایک لڑائی کے بعد طلاقِ اول کا پیپر دیا لیکن کُچھ دنوں بعد دونوں نَے رجو ع کر لیا ,کچھ عرصہ بعد میرے والد صاحب نے دوبارہ محفل میں بیٹھ کر غصے میں ایک ساتھ منہ زبانی تین اکٹھی طلاقیں دے دی , اگلے دن میری والدہ گھر چھوڑ کر چلی گئی , اُس کے بعد کوئی رجوع نہیں ہوا , اس وقت طلاق کو ایک سال گزر چکا ہے , تو میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ دونوں نیا نکاح کر لیں نئے حق مہر کے ساتھ , یا ایسا ممکن نہیں ہے ؟ کیوں کہ میں نے سنا ہے کہ تین اکٹھی طلاقیں دینا ایک شمار ہوتی ہے ,برائے مہربانی ہماری راہنمائی کریں
واضح ہو کہ ایک مجلس میں تین طلاق چاہے ایک جملہ سے دی جائیں یا الگ الگ جملوں سے دی جائیں تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں ، تین طلاق کو ایک شمار کرنا ائمہ اربعہ میں کسی کا مسلک نہیں ، جبکہ اس سلسلہ میں کسی غیر مقلد سے ایک طلاق کا فتوی لے کر نکاح کرنے سے بیوی حلال نہ ہوگی ، لہذا سائل کے والد نے ایک طلاق دینے کے بعد اگر عدت کے اندر رجوع کرلیا تھا تو وہ رجوع درست ہواہے ،جس کے بعد سائل کے والد کو صرف دو طلاقوں کا اختیار تھا ، اب دوبارہ اکٹھی تین طلاق دینے کے بعد مزیددو طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، جبکہ تیسری طلاق محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوئی ، اب رجوع نہیں ہوسکتا ، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، جبکہ سائل کی والدہ عدت مکمل کرنےکے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے -