نام رکھنے کا حکم

ابیحہ،نبیحہ اور ربیحہ نام رکھنے کا حکم اور ان کا درست تلفظ ؟

فتوی نمبر :
57983
| تاریخ :
2022-08-26
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

ابیحہ،نبیحہ اور ربیحہ نام رکھنے کا حکم اور ان کا درست تلفظ ؟

میرا سوال یہ ہے کہ مجھے اللہ تعالی نے دو مہینے پہلے بیٹی کی رحمت سے نوازا ہے میں نے ایک مفتی صاحب سے کچھ ناموں کی تحقیق چاہی جوکہ یہ تھے ابیہا،نبیها،اور ربیحہ ،ان کا کہنا تھا کہ تینوں نام اچھے ہیں آپ بس ابیہا کو ابیہہ ،نبیها کو نبیهہ یعنی کہ آخر میں الف کی جگہ ہ کردیں اور ربیحہ کو روبیحہ کردے کیونکہ عربی زبان میں یہ اسی طرح لکھے جاتے ہیں ،میرا سوال یہ ہے کیا ان ناموں کو جیسا کہ مفتی صاحب نے کہا ہے اسی طرح لکھنا پڑے گا یا میں نے جس طرح لکھے ہیں اس طرح صحیح ہے ،براہ مہربانی جلد جواب عنایت فرمائیں ،اللہ آپ کو حامی وناصر ہو ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ابیہہ ،نبیهہ اور ربیحہ نام رکھنا شرعاً جائز اور درست ہے اور اس کا صحیح تلفظ اور کتابت یہ ہے کہ آخر میں "الف "کے بجائے "ۃ" پڑھی اور لکھی جائے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی لسان العرب :وشئی نبه ونبه ای مشہور ورجل نبیه شریف ونبه الرجل بالضم شرف واشتھر نباھة فھو نبیه ونابه وھو خلاف الخامل ونبھته انا رفعته من الخمول یقال اشیعوا بالکنی فانھا منبہة وفی الحدیث فانه منبہة للکریم أی مشرفة ومعلاۃ من النباھة یقال نبه ینبه اذا صار نبیها شریفا والنباھة ضدالخول وھو نبه وقوم نبه کاالواحد عن ابن الاعرابی کانہ اسم للجمع ورجل نبه ونبیه اذا کان معروفاً شریفاً اھ (13/547)
وکما فی الصحاح تاج اللغة:ونبه الرجل بالضم شرف واشتھر یبنه نباھة فھو نبیه ونابه اھ (16/2252)
وکمافی الاصابة فی تمییز الصحابہ:ربیحة بالتصغیر والمھملة مولاة رسول اللہ ﷺ ذکرھا ابن سعد اھ (8/132)
وکما فی اسد الغابة:اخرجھا ابو عمرو وابو موسی وقال ابو موسی ریحانة بنت عمرو سریة رسول اللہ ﷺ ذکرھا الحافظ ابو عبید اللہ یعنی ابن مندہ فی ترجمة ماریة ولم یترجم لھا ویقال ربیحة اھ(6/121) واللہ اعلم بالصوا ب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 57983کی تصدیق کریں
0     2237
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات