کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی سے کہے کہ ’’ تم مجھ سے رہ گئی جاکے میرے بھائی سے نکاح کرو ‘‘تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
صورتِ مسئولہ میں اگر شخص مذکور نے مذکور الفاظ ،طلاق کی نیت سے کہے ہوں تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوچکی ہے اور اس سے ان دونوں کا نکاح ختم ہو چکا ہے، اب بغیر تجدیدِ نکاح کے دونوں کا باہم میاں بیوی کی طرح رہنا شر عاً جائزنہیں جبکہ عورت ایامِ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی، تاہم اگر میاں بیوی دونوں باہمی رضامندی سے ساتھ رہنا چاہیں تو شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ ایجاب و قبول کر کے نکاح کے بعد رہ سکتے ہیں، لیکن آئندہ کیلئے شوہر کو فقط دو طلاقوں کا اختیار ہو گا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
كما في الدر المختار: باب الكنايات (كنايته)عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات لا تطلق بها قضاء إلا بنية أو دلالة الحال وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب (2973)۔
وفيه ايضاً :وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع ومنع غيره فيها لاشتباه النسب اھ (3) (409)
وفي الدر المختار : لست لي بامرأة وما أنا لك بزوج اهـ (3/ 303)۔
وفیه ایضاً: (لا) يلحق البائن (البائن) إذا أمكن جعله إخبارا عن الأول: اھ 3/309)۔