شوہر نے اپنی بیوی سے کہا کہ تجھے تیسری طلاق تو کتنی طلاق واقع ہوں گی ؟ ( حالانکہ شوہر نے اس سے پہلے اپنی بیوی کو ایک بھی طلاق نہیں دی)
سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃًدرست اور مبنی بر حقیقت ہو اس طور پر کہ شوہر نے حالیہ واقعہ سے قبل کوئی طلاق نہ دی ہو ، تو مذكور الفاظ " تجھے تیسری طلاق " سے اسکی بیوی پر تین طلاقیں واقع نہیں ہوئی، بلکہ فقط ایک طلاق رجعی واقع ہوئی ہے جس کا حکم یہ ہیکہ شوہر کو دورانِ عدت رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہے ، البتہ اگر شوہر نے عدت میں رجوع نہ کیا ہو تو عدت گزرنے کے بعد دوبارہ ساتھ رہنے کیلئے گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کیساتھ تجدیدِ نکاح لازم ہو گا، بہر حال آئندہ کیلیے شوہر کے پاس فقط دو طلاقوں کااختیار ہو گا۔
کما في الدر المختار : وفي القنية طلقتك آخر الثلاث تطليقات فثلاث وطالق آخر ثلاث تطليقات فواحدة والفرق دقيق حسن اھ (281/3)
وفي حاشية ابن عابدين : تحت قوله(والفرق دقيق حسن) وجه الفرق أنه أضاف الآخر إلى ثلاث معهودة ومعهوديتها بوقوعها بخلاف المنكر اھ
أقول: هذا بعد تسليمه إنما يتم بناء على ما ذكره الشارح تبعا للبحر في أول باب الطلاق الصريح من تعريف لفظ ثلاث في الأولى وتنكيره في الثانية مع أنه منكر في الصورتين كما رأيته في عدة كتب كالتتارخانية والهندية والذخيرة والبزازية وقد ذكر الفرق في البزازية بأن الآخر هو الثالث، ولا يتحقق إلا بتقدم مثليه عليه لكنه في الأولى أخبر عن إيقاع الثلاث، وفي الثانية وصف المرأة بكونها آخر الثلاث بعد الإيقاع وهي لا توصف بذلك فبقي أنت طالق و به تقع الواحدة. اھ (281/3)
وفيه ايضاً : أن الصريح نوعان: صريح رجعي وصريح بائن، فالأول أن يكون بحروف الطلاق بعد الدخول حقيقة غير مقرون بعوض ولا بعدد الثلاث لا نصا ولا إشارة ولا موصوف بصفة تنبئ عن البينونة أو تدل عليها من غير حرف العطف ولا مشبه بعدد أو صفة تدل عليها اھ (250/3)
وفيه ايضاً : فإذا دخل بها وهي معتدة عن رجعي صار مراجعا اھ (354/3) –
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0