ایک آدمی نے شادی کر لی لیکن اس حقیقت کو چھپایا کہ وہ مردانہ کمزوری میں مبتلا ہے، اور اپنی بیوی کے از دواجی حقوق کو پورا کرنے سے قاصر ہے، دو سال کے بعد اس کا علاج ہوا ،اور ان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا جو بعد میں مر گیا، شوہر کی بیماری بڑھ گئی اور وہ علاج کروانے کو تیار نہیں ہے، جبکہ اس کی بیوی کی خواہش ہے کہ وہ بچہ پیدا کرے، کیا اس کی بیوی تنسیخِ نکاح کا مقدمہ دائر کر سکتی ہے؟ اور قرآن اور سنت میں ایسے شوہر کیلئے کیاسزا ہے ؟
شخصِ مذکور چونکہ ایک مرتبہ حق زوجیت ادا کر چکا ہے اس لئے اس مرض کی بناء پر اسکی بیوی تنسیخِ نکاح کا مقدمہ دائر نہیں کر سکتی، البتہ اب اگر علاج کی تمام کوششیں نا کام ہو چکی ہوں اور عورت کو اس طرح رہنے سے گناہ میں مبتلاء ہونے کا اندیشہ ہو تو شوہر کو طلاق بالمال یا خلع پر آمادہ کر سکتی ہے، چنانچہ وہ طلاق یا خلع دیدے تو اسکی عدت مکمل کر کے دوسری جگہ شادی بھی کر سکتی ہے۔
کما في مشكاة المصابيح: عن عبد الله بن مسعودؓ قال قال رسول الله ﷺ يا معشر الشباب من استطاع منكم الباءة فليتزوج فإنه أغض للبصر وأحصن للفرج ومن لم يستطع فعليه الصوم فانه له وجاء۔الحدیث(2/267)
وفي الدر المختار: (فلو جب بعد وصوله إليها) مرة (أو صار عنينا بعده) أي الوصول (لا) يفرق لحصول حقها بالوطء مرة۔اھ (3/495)
وفي الفتاوى الهندية: ولو وصل إليها مرة، ثم عجز لا خيار لها كذا في التبيين۔اھ (1/524)
وفيھا ایضاً: إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية۔اھ (1/488)