نام رکھنے کا حکم

محمد احمد رکھ سکتے ہیں؟اور اس میں کوئی گستاخی تو نہیں ؟

فتوی نمبر :
48580
| تاریخ :
2021-12-19
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

محمد احمد رکھ سکتے ہیں؟اور اس میں کوئی گستاخی تو نہیں ؟

السلام علیکم ا!یک مسئلہ معلوم کرنا ہے، میں اپنے بیٹے کا نام" محمد احمد "رکھنا چاہتا ہوں ، ایک سوال یہ ہیکہ کیا اس نام کے رکھنے میں یا پکارنے میں کوئی تعظیم کے حساب سے ممانعت ہے؟ مزید رہنمائی کیجیے کہ کوئی گستاخی کا مسئلہ تو نہیں آئیگا ؟ ساتھ ساتھ یہ کہ میری خواہش ہے کہ "محمد احمد "ہی پکارا جائے ،مگر ظاہر ہے کہ اس بات پر میرا کوئی کنٹرول نہیں ہے، تو کوئی "محمد احمد" پکارے گا ،کوئی احمد " پکارے گا، کوئی صرف محمد بھی پکارے گا، تو محمد پکارنے میں کوئی گستاخی تو نہیں ہوگی میری، میرے بیٹے یا پکا رنے والے کی طرف سے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کا اپنے بیٹے کیلئے "محمد احمد "نام رکھنا بلا شبہ جائز بلکہ باعث برکت ہے ،اور لوگوں کو بھی چاہیے کہ پھر سائل کے بیٹے کو مکمل نام سے پکاریں، البتہ اگر کوئی شخص صرف " محمد " یا صرف "احمد" پکارے تو اس میں بھی کوئی گستاخی نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی صحيح مسلم: عن جابر بن عبد الله، قال: ولد لرجل منا غلام فسماء محمدا، فقال له قومه: لا ندعك تسمي باسم رسول الله صلى الله عليه وسلم فانطلق بابنه حامله على ظهره فأتى به النبي صلى الله عليه وسلم، فقال يا رسول الله، ولد لي غلام فسميته محمدا فقال لي قومي: لا ندعك تسمي باسم رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: تسموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي، فإنما أنا قاسم أقسم بينكم (1682/3) ۔
في مشكاة المصابيح :عن أبي وھب الجشمى قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم تسموا باسماء الانبياء اھـ (409/2)
وفي مرقاة شرح المشكاة :عن أبي الدرداء رضى الله عنه قال رسول الله صلى الله عليه وسلم تدعون يوم القيامة باسمائکم واسمائکم آبائکم فاحسنوا اسمائکم اھ (526/8) والله اعلم بالصواب۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 48580کی تصدیق کریں
0     763
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات