السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !شوہر نے غصے میں بیوی سے کہا کہ "دل تو کرتا ہے کہ فارغ کر دوں" ،اس سے طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ جزاکم اللہ!
سوال میں مذکور الفاظ کہ "دل تو کرتاہے کہ فارغ کر دوں" کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوئی، بلکہ دونوں حسب سابق میاں بیوی کی حیثیت سےرہ سکتے ہیں، مگر شوہر کو آئندہ ان جیسے الفاظ کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہیے۔
کمافی الھندية: في المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقا وفي إيمان مجموع النوازل سئل نجم الدين عن امرأة قالت لزوجها من بر تو سه طلاقه أم فقال الزوج هلا هل تطلق ثلاثا قال لا إلا أن ينويها ولو قالت لزوجها حلال خدا بر توحرام فقال آري حرمت عليه بتطليقة سئل نجم الدين عن رجل قال لامرأته اذهبي إلى بيت أمك فقالت طلاق ده تابروم فقال تو برو من طلاق دمادم فرستم قال لا تطلق لأنه وعد كذا في الخلاصة اھ(384/1) –