السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
عرض یہ ہے کہ زید(فرضی نام) جو ایک مدرسہ کا ذمہ دار اور ناظم ہے، اس نے مدرسہ کی رقوم سے معتد بہ رقم بطورِ قرض خرچ کرلی تھی، اس خیال سے کہ تھوڑا تھوڑا کرکے ادا کردیں گے، بعد میں جب مسئلہ معلوم ہوا کہ ایسا کرنا جائز نہیں تھا تو اب اس کی ادائیگی کی فکر ہوئی،اب اس کے پاس نقد رقم نہیں ہے، لیکن اس کے پاس ایک زمین ہے،جس کو بیچ کر وہ مدرسہ کا قرض ادا کرسکتا ہے،لیکن زید بحیثیتِ ناظم اس زمین کو مدرسہ کیلئے کار آمد اور بہت مفید خیال کرتا ہےاور چاہتا ہے کہ کوئی ایسی صورت نکل آئے،جس سے یہ زمین مدرسہ کی ہوجائے اور وہ مدرسہ کے قرض سے بھی سبکدوش ہوجائے،بعض اہلِ علم نے اس کو مشورہ دیا کہ تم مدرسہ کی نظامت سے استعفی دے دو اور ایک کمیٹی بنا کر مدرسہ کی ذمہ داری اس کے حوالے کردو اور اپنے کو الگ کرلو، اس کے بعد کمیٹی اپنے آزاد ذرائع سے اس زمین کی ویلیو اور قیمت کا پتہ لگائے اور اس پہلو پر بھی غور کرے گی، آیا یہ زمین مدرسہ کی ضرورت اور اس کے لئے مفید ہے کہ نہیں؟ جب کمیٹی افراد مطمئن ہوجائیں گے تو وہ زید کی زمین اس سے اس قرض کے بدلے خرید لیں گے،جو مدرسہ کا اس کے ذمہ ہے، کیا اداءِ قرض کیلئے یہ طریقہ شرعاً درست ہے؟ یا اور کیا شرعی طریقہ ہوسکتا ہے کہ زید کا قرض بھی ادا ہوجائے اور زمین مدرسہ کی ہوجائے؟بینوا تؤجروا
واضح ہوکہ مدرسہ کی رقم مہتممِ مدرسہ یا ناظمِ مدرسہ کے پاس امانت ہوتی ہے، اس سے اپنی ضروریات پوری کرنا جائز نہیں ہوتا، لہذا مذکور ناظم کا مدرسہ کی رقم اپنی ذاتی ضروریات میں استعمال کرلینا جائز نہیں تھا، جس پر انہیں توبہ واستغفار اور جلد از جلد اس رقم کو واپس لوٹانا لازم ہے،تاہم رقم کو لوٹانے کیلئے سوال میں مذکور طریقۂ کار اختیار کرکے سائل کو مدرسہ کی نظامت سے باقاعدہ مستعفی ہونا شرعاً ضروری نہیں،بلکہ اہلِ محلہ کچھ متدین لوگوں کو(جو مدرسہ کے امور سے واقف ہوں)اپنے ساتھ شامل کرکے ایک کمیٹی تشکیل دے دیں،جس کے بعد باہمی مشاورت سے مدرسہ کی ضروریات کو مدِ نطر رکھتے ہوئے اگر یہ زمین مذکور قرض کی مد میں مارکیٹ ویلیو پر خریدی جائے، تو اس سے یہ قرضہ ادا ہوجائے گااور اگر مدرسہ کیلئے اس کی ضرورت نہ ہو تو اسے کسی دوسری جگہ فروخت کرکے مذکور قرض ادا کرنے کی ترتیب بنائی جائے۔
کمافی الدر المختار:(فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن) الخ
وفی رد المحتار: تحت(قوله: لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه، ولا يعار، ولا يرهن لاقتضائهما الملك درر اھ(4/351)۔
وفی البحر الرائق: ان القیم لیس له اقراض مال المسجد قال فی جامع الفصولین لیس للمتولی ایداع مال الوقف والمسجد الا ممن فی عیاله ولا اقراضه فلو اقرضه ضمن وکذا المستقرض وذکر ان القیم لو اقرض مال المسجد لیاخذہ عند الحاجة و ھو احرز من امساکه فلاباس به وفی العدة یسع المتولی اقراض مافضل من غلة الوقف لواحرز اھ(5/259)۔
وفی الفتاوی الھندیة: الودیعة لاتودع ولاتعار ولاتؤاجر ولاترھن وان فعل شیئا منھا ضمن،کذا فی البحر الرائق اھ(4/338)۔