السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
سوگز زمین مسجد بنانے کے لئے خریدی گئی، لیکن مسجد نوے گز زمین پر بنی اور دس گز زمین خالی پڑی ہے، عرض یہ ہے کہ باقی ماندہ زمین کو بیچ کر اس کی رقم مسجد ہی میں لگا دی جائے تو کیا حکم ہے؟
مذکور سو گز زمین اگر مسجد ہی کے لئے خریدی گئی ہو تو اس میں مسجد(نماز پڑھنے کی جگہ) اور وضوء خانہ وغیرہ بنانے کے بعد کچھ زمین باقی رہ گئی،تو وہ زمین بھی مسجد کی ملکیت ہے،لہذا اس حصہ کو فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں، بلکہ مصالحِ مسجد میں ہی اس کا استعمال لازم اور ضروری ہے۔
کمافی الدر المختار: (ولو خرب ما حوله واستغني عنه يبقى مسجدا عند الإمام والثاني) أبدا إلى قيام الساعة (وبه يفتي) حاوي القدسي الخ
وفی الشامیة: قوله: ولو خرب ما حوله) أي ولو مع بقائه عامرا وكذا لو خرب وليس له ما يعمر به وقد استغنى الناس عنه لبناء مسجد آخر (قوله: عند الإمام والثاني) فلا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر، سواء كانوا يصلون فيه أو لا وهو الفتوى حاوي القدسي اھ(4/358)۔