مفتی صاحب میرے ایک دوست نے دوسری شادی کرنا تھی، اس کی دوسری بیوی نے یہ شرط رکھی کہ میں آپ سے اس شرط پرشادی کروں گی اگر آپ اپنی پہلی بیوی کو طلاق دو , اس نے نقلی طلاق نامہ بنوا کر اس کو دکھا کر شادی کرلی اور اس نے اپنی دوسری بيوی کے اور اس کے گھر والوں کے سامنے ان گنت مرتبہ اقرار کیا ہے کہ میں نے پہلی بیوی کو طلاق دے دی ہے , کیا اس کے اس طرح کہنے سے طلاق ہو گئی ہے۔
سائل کے دوست نے جعلی طلاق نامہ بنوانے سے پہلے اگر اس پر گواہ بنائے تھے کہ یہ طلاق نامہ میں جعلی بنارہا ہوں ، تو ایسی صورت میں اس طلاق نامہ کی وجہ سائل کے دوست کی پہلی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی تھی ، تاہم سائل کے دوست نے دوسری بیوی اور اسکے والدین کے سامنے تین مرتبہ طلاق کا اقرار کیا ہو تو اس اقرار سے بھی طلاق واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا۔
كما فى الشامية : (قوله أو هازلا) أي فيقع قضاء وديانة كما يذكره الشارح، وبه صرح في الخلاصة معللا بأنه مكابر باللفظ فيستحق التغليظ، وكذا في البزازية. وأما ما في إكراه الخانية: لو أكره على أن يقر بالطلاق فأقر لا يقع، كما لو أقر بالطلاق هازلا أو كاذبا فقال في البحر، وإن مراده لعدم الوقوع في المشبه به عدمه ديانة، ثم نقل عن البزازية والقنية لو أراد به الخبر عن الماضي كذبا لا يقع ديانة، وإن أشهد قبل ذلك لا يقع قضاء أيضا. اهـ. (238/3)