السلام علیکم و رحمۃ الله و برکاتہ !
میری بیوی نے مجھ سے طلاق کا مطالبہ کیا اور میں نے اس کو سوچنے کیلئے کچھ وقت دیا , چند دنوں کے بعد اس نے پھر مطالبہ کیا تو میں نے برضا و رغبت اسے ان الفاظ میں طلاق دے دی " تم آج سے میری طرف سے آزاد ہو " دورانِ عدت پہلے ماہ میں ہی میں نے رجوع کرلیا , اب کسی نے بتایا ہے کہ یہ طلاق , طلاق نہیں تھی،بلکہ یہ خلع تھی اس لئےمجھے رجوع کے لئے دوبارہ نکاح کرنا چاہیئے تھااور اس دوران اگر عورت حاملہ ہو جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
واضح ہو کہ "آزاد ہو " کا لفظ چونکہ عرف میں صریح طلاق کیلئے مستعمل ہے اس لئے اس لفظ کے استعمال سے صریح طلاق واقع ہو گئی , چنانچہ سائل نے اگر اس سے قبل یا بعد مزید طلاق کے الفاظ استعمال نہ کیے ہوں تو مذکور الفاظ سے سائل کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو چکی تھی اور سائل کو عدت کے اندر رجوع کرنے کا حق حاصل تھا لہذا جب سائل نے عدت کے اندر رجوع کرلیاہےتو دونوں کا حسبِ سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرنا بھی درست ہے ، سائل کو جس نے ان الفاظ " آج سے میری طرف سے آزاد ہو " سے طلاقِ رجعی کے بجائے خلع کا کہا ہے اس نے غلط بتایا ہے جبکہ سائل کو آئندہ فقط دو طلاقوں کا اختیار رہےگا اور جب کبھی دو طلاقیں بھی دیدے گا تو اس کی بیوی اس پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جائے گی۔اس لئے آئندہ اس قسم کے الفاظ کے استعمال سے احتراز کرے ۔
کمافي رد المحتار: بخلاف فارسية قوله سرحتك وهو " رهاء كردم " لأنه صار صريحا في العرف على ما صرح به نجم الزاهدي الخوارزمي في شرح القدوري اهـ (3/299)