السلام علیکم جناب مفتی صاحب!
میں تبلیغی جماعت میں جاتا ہوں اور اکثر اپنے ساتھ موبائل فون بھی لے جاتا ہوں اور اس موبائل کو مسجد میں ری چارج کرتا ہوں،ری چارج کرنے کے بعد کچھ روپے مسجد کے باکس میں ڈال دیتا ہوں ،ری چارج کی مد میں،کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے، اس کی وضاحت فرمادیں۔
مذکور طریقے سے موبائل کو مسجد کی بجلی سے ری چارج کرکے باکس میں اس کے بدلے کچھ رقم ڈال دینے کی اگرچہ گنجائش ہے،مگر بہتر یہ ہے کہ مسجد سے باہر کسی اور جگہ یہ عمل کیا جائے اور اگر ایسی صورت نہ ہو،بلکہ مسجد ہی میں کرنا ہو تو واقف متولی یا منتظمہ کمیٹی کے علم میں لاکر کرے۔
کمافی الدرالمختار: استأجر دارا موقوفة فيها أشجار مثمرة هل له الأكل منها؟ الظاهر أنه إذا لم يعلم شرط الواقف لم يأكل لما في الحاوي: غرس في المسجد أشجارا تثمر إن غرس للسبيل فلكل مسلم الأكل وإلا فتباع لمصالح المسجد الخ
وفی الشامیة: (قوله لم يأكل) أي يبيعها المتولي ويصرفها في مصالح الوقف بحر (قوله: إن غرس للسبيل) وهو الوقف على العامة بحر (قوله: وإلا) أي وإن لم يغرسها للسبيل بأن غرسها أو لم يعلم غرضه بحر عن الحاوي، وهذا محل الاستدلال على قوله الظاهر أنه إذا لم يعلم شرط الواقف لم يأكل وهو ظاهر فافهم اھ(4/432)۔