میرا سوال" بنیامین " نام سے متعلق ہے میں یہ جانا چاہتا ہوں کہ مسلمان بچے کا یہ نام رکھناصحیح ہے کہ یوسف علیہ السلام کے ایک بھائی کا نام تھا لیکن تلفظ اور معنی میں مسئلہ ہے ,بائیبل کی عبارت اور یہودی لغات کے مطابق یہ ایک عبرانی لفظ ہے لیکن میری سمجھ کے مطابق یہ لفظ عربی بھی ہے وہ اس طرح کہ بن بمعنی " ولد" اور یا مین " مدکے کے ساتھ " بمعنی "برکت شدہ ،اور بغیر مد کے اس کا تعلق بنیامین سے نہیں ہے، جسکا معنی "دائیاں ہاتھ یا دائیں طرف " تو اس طر ح تلفظ بدل جائے گا لیکن عبرانی زبان میں جو اس کا معنی میں نے دیکھا ہے وہ یہ "کہ میرے دائیں ہاتھ یا دائیں طرف کا بیٹا "لیکن یہ معنیٰ یمین (بغیر مد کے) کا ہے جو تلفظ کے خلاف ہے تو میں اس بارے پریشان ہوں کہ ایسا نہ ہو کہ کسی غلط معنیٰ کا حامل لفظ ہو ،دوسری طرف دائیں ہاتھ سے اس طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے کہ اعمال صالحہ اور اچھے امور اور معنی ابن البرکۃ بھی ہو سکتا ہے جو ایک نیک صالح پیغمبر حضرت یوسف علیه السلام( جن میں سے بہت زیادہ محبت کرتا ہوں )کے حقیقی بھائی کا نام ہو لہذا برائے مہربانی میری پریشانی کو دور کرکے اس کے نام کا صحیح تلفظ اور معانی سے آگاہ فرمائیں۔
"بنیا مین "(الف کے ساتھ ) عبرانی زبان کا مکمل لفظ ہے ، اسکے معنی "خوبصورت یا صالح باپ کی اولاد" کے ہیں اور یہ حضرت یوسف کے حقیقی بھائی کانام تھا اس لئے کسی بچے کا "بنیا مین" نام رکھنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں بلکہ بلاشبہ جائز اور درست ہے۔