جناب ! میرا سوال یہ ہے کہ بلڈنگ یا فلیٹ کے نیچے مسجد بنانا کیسا ہے؟
اگر کسی بلڈنگ اور فلیٹ کو باقاعدہ مسجد پر وقف کردیا جائے اور اس کی تمام آمدن مسجد پر ہی خرچ ہو تو اس صورت میں اس بلڈنگ کے نچلے یا بالائی کسی بھی حصہ کو مسجد بنانا بلاشبہ جائز اور درست ہے اور یہ مسجدِ شرعی کہلائے گی اور اگر ایسی صورت نہ ہو،بلکہ محض ایک حصہ کو نماز وغیرہ کے لئے فارغ یا مختص کیا گیا ہو تو اس صورت میں یہ جگہ مسجدِ شرعی کے حکم میں نہیں ہوگی،بلکہ محض جائے نماز کہلائے گی۔
کما فی الفتاوی التاتارخانیة: اذا اراد انسان ان یتخذ تحت المسجد حوانیت نحلة لمرمة المسجد او فوقه لیس له ذالك
وفیه أیضاً: اذا بنی الرجل مسجدا وبنی فوقه غرفة وھو فی یدہ فله ذالك اھ(5/844)۔