اگر ایک شخص نے کہنا یہ تھا کہ میں نےبیوی کو طلاق نہیں دی مگر غلطی سے اس کے منہ یہ نکل گیا کہ میں نے طلاق دی ہے تو اب وہ اگر قسم دے کہ غلطی سے یہ جملہ نکلا ہے حالانکہ اس نے فی الواقع طلاق نہ دی ہو تو کیا حکم ہے۔
شخصِ مذکور نے مذکور الفاظ " میں نے طلاق دی ہے " اگر چہ غلطی سے کہے ہوں تب بھی اس کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوچکی ہے ،جس کا حکم یہ ہے کہ شخصِ مذکور عدت کے اندر رجوع کرنا چاہے تو رجوع کر سکتا ہے ، جبکہ عدت کے بعد دوبارہ نکاح کر نا لازم ہو گا بہر دو صورت شخصِ مذکور کو آئندہ دو طلاقوں کا اختیار باقی رہا، جب کبھی وہ دو طلاقیں بھی دیدے گا تو اس کی بیوی اس پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جائے گی، اس لئے آئندہ طلاق کے متعلق احتیاط لازم ہے۔
كما في سنن الترمذي : ثلاث جدهن جد، وهزلهن جد: النكاح، والطلاق، والرجعة.اھ(2/481)
وفی التاتارخانیة:وطلاق اللاعب والھازل واقع وکذا الرجل یرید ان یتکلم بکلام فسبق لسانه بالطلاق فالطلاق واقع۔۔۔قال ابوحنیفةؒ لایجوز فی الغلط فی الطلاق ویجوز فی العتاق حتی أن الرجل لواراد ان یقول لامراته "اسقینی "فسبقه اللسان فقال"انت طالق"فقال ھی طالق ولو کان ذالک فی العتاق یدین بینه وبین اللہ تعالیٰ وقال ابویوسف ؒھماسواء اھ(3/396)
وفی الدرالمختار: باب الصريح (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة)(ويقع بها)۔۔۔ (واحدة رجعية، وإن نوى خلافها)۔۔۔ (أو لم ينو شيئا)اھ(3/250)