کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی جو حکومت پنجاب کی طرف سے الاٹمنٹ آڈر کے تحت ۱۲ ایکڑ اراضی کا مالک و قابض تھا، وہ اپنی زمین کو اپنی بیٹی کے نام منتقل کروانا چاہتا تھا ،لیکن کچھ قانونی عوارض (عدم پٹہ ملکیت / سٹے) کی وجہ سے انتقال کر وانا ممکن نہیں تھا، جس کی بنا پر اس نے قانونی کاروائی کرتے ہوئے ، اسٹامپ پیپر پر اپنی بیٹی کے نام اقرار نامہ بھی لکھ دیا اور قبضہ بھی سپرد کر دیا، جس کے بعد اس کی بیٹی اور داماد اس زمین کو، حکومت پنجاب کی طرف سے حقوق ملکیت حاصل کرنے کے لئے اور اس زمین کو قابل کاشت بنانے کے لئے دیگر اخراجات بھی کر چکے ہیں ۔ اب آیا کہ ان کی وفات کے بعد شرعی تقسیم ہو گی یا اقرار نامہ بیع پر عمل کیا جائے گا ؟جبکہ ورثاء میں ایک بیٹی اور چار بھائی ہیں۔
سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعتاً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس طور پر کہ مرحوم نے اپنی صحت والی زندگی میں مذکور بارہ ایکڑ، زمین کا اقرار نامہ بیع ، اپنی بیٹی کے نام لکھ کر زمین اس کے حوالے کر دی ہو، تو ایسی صورت میں مرحوم کی بیٹی مذکور زمین کی مالک بن چکی ہے، اب مرحوم کی وفات کے بعد اس میں مرحوم کے دیگر ورثاء کا شرعاً کوئی حق نہیں ۔
ففي الدر المختار: وشرعا: (مبادلة شيء مرغوب فيه بمثله) (إلى قوله) وحكمه ثبوت الملك. (4/ 502)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: وحكمه ثبوت الملك) أي في البدلين لكل منهما في بدل، وهذا حكمه الأصلي اھ (4/ 506)
و في التاتارخانية: و في هبة الأصل: ِذا قال: هي لك فاقبضها، فهي هبة ، و في الأصل جعلت هذه الدار لك فاقبضها فهي هبة، و في الخانية أو قال هي لك تسكنها فهى هبة اھ (۱۴/۴۱۴) والله اعلم بالصواب