میرا سوال تم میرے نکاح میں نہیں رہی میرا رزق تم پر حرام ہے،کیا ان الفاظ سے طلاق ہوجاتی ہے تو شرعی حیثیت کیا ہے؟ میرے گھر سے نکل جاؤ،دفع ہوجاؤ۔
سوال میں مذکور الفاظ شوہر نے اگر طلاق کی نیت سے کہے ہوں تو ان سے ایک طلاقِ بائن واقع ہوکر دونوں کا نکاح ختم ہوچکاہے،دوبارہ میاں بیوی کی طرح رہنے کے لیے گواہوں کی موجودگی میں نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ تجدید نکاح لازم ہوگا،تاہم اس کے بعد شوہر کو آئندہ فقط دو طلاوں کا اختیار رہے گا،جب کبھی وہ دو طلاقیں بھی دے دے،تو بیوی اس پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجائیگی۔
کمافی رد المحتار: لكن في الجوهرة؛ ولو قال أنا بريء من نكاحك وقع الطلاق إذا نواه، وإن قال أنا بريء من طلاقك لا يقع شيء لأن البراءة من الشيء ترك له. اهـ. (3/ 302)۔
وفی الفتاوى الهندية: ولو قال لها لا نكاح بيني وبينك أو قال لم يبق بيني وبينك نكاح يقع الطلاق إذا نوى(1/ 375)۔
وفی الھدایۃ: وبقیۃ الکنایات إذا نوی بھا الطلاق کانت واحدۃ بائنۃ وان نوی ثلثا کان ثلثا وھذا مثل قولہ انت بائن وبتۃ( الی قولہ) اخرجی واذھبی وقومی لانھا تحتمل الطلاق وغیرہ فلابد من النیۃ الخ(2/309)۔