میں نے لڑائی میں اپنی بیوی کو کہا کہ ’’ میرا تم سے اب کوئی رشتہ نہیں , تم آزاد ہو‘‘ جب کہ میری نیت صرف ڈرانے کی ہو اور طلاق مقصدنہیں ہو , تو کیا طلاق ہو گئی ؟ راہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ آزاد کا لفظ عرف میں صریح طلاق کے لئے مستعمل ہے ، لہذا جب سائل نے اپنی بیوی کو ایک دفعہ سوال میں مذکورالفاظ کہہ دیے تو اس سے سائل کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو چکی ہے ، جس کا حکم یہ ہے کہ سائل کو دورانِ عدت رجوع کا حق حاصل ہے، البتہ اگر سائل نے دورانِ عدت رجوع نہیں کیا تو عدت مکمل ہونے کے بعد ایک ساتھ رہنے کیلئے باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کیساتھ تجدید ِنکاح لازم ہوگا، تاہم اس رجوع یا نکاح کے بعد آئندہ کیلئے سائل کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار ہو گا ، اس لئے آئندہ طلاق کےمعاملہ میں احتیاط سے کام لینا ضروری ہے۔
كما في الهندية : ولو قال في حال مذاكرة الطلاق باينتك أو أبنتك أو أبنت منك أو لا سلطان لي عليك أو سرحتك أو وهبتك لنفسك أو خليت سبيلك أو أنت سائبة أو أنت حرة أو أنت أعلم بشأنك. فقالت: اخترت نفسي. يقع الطلاق وإن قال لم أنو الطلاق لا يصدق قضاء اھ(1/375)-
وفی ردالمحتار: فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن ولولا ذلك لوقع به الرجعي.اھ (3/299)-