میں اپنے علاقے کا ناظم ہوں،میں ایک مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں،ہمارے حلقے میں ستر سالہ پرانا قبرستان ہے،چونکہ علاقے میں جنازہ گاہ کی ضرورت ہے،لہذا اہلِ علاقہ کا اصرار ہے کہ اس قبرستان میں مٹی اور ریت ڈال کربھر دیا جائے اور یہاں جنازہ گاہ بنایا جائے،آپ سے فتوی درکار ہے کہ اس جگہ صرف قبریں بنائی جائیں؟ یا جنازہ گاہ بھی بنایا جاسکتا ہے؟ مجھے اس میں قبور کی بےحرمتی لگتی ہے،اس میں رہنمائی فرمائیں۔
مذکور جگہ اگر باقاعدہ قبرستان کے لئے وقف کی گئی ہو،جس میں ایک عرصے سے تدفین کا عمل جاری ہو،تو ایسی صورت میں واقف کی منشاء کے خلاف اس جگہ کو جنازہ گاہ یا کسی اور رفاہی کام کے لئے استعمال کرنا درست نہیں،بلکہ مذکور جگہ کو اپنی پرانی حیثیت پر برقرار رکھنا لازم ہے،البتہ اگر مذکور جگہ باقاعدہ قبرستان کے لئے وقف نہ ہوئی ہو اور اس میں موجود قبریں اتنی پرانی ہوچکی ہوں کہ قبروں میں موجود مردوں کی ہڈیاں بوسیدہ ہوچکی ہوں،تو ایسی صورت میں وہاں مٹی وغیرہ ڈال کر اس جگہ کو ہموار کرنے کے بعد اسے جنازہ گاہ کے لئے استعمال کرنا بھی جائز اور درست ہوگا۔
کمافی البحر الرائق: وفی تبیین،لو بلی المیت وصار تراباً جاز دفن غیرہ فی قبرہ وزرعه والبناء علیه اھ(2/195)۔
وفی الطحطاوی:ولاباس بالصلاة فیھا اذا کان فیھا موضع اعد للصلاة ولیس فیه قبر ولانجاسة الخ اھ(1/380)۔