ہم یورپ میں رہتے ہیں اور یورپین قانون کے مطابق آپ صرف ایک بیوی رکھ سکتے ہیں ایک وقت میں،میری بیوی کے ہاں اولاد نہیں ہوسکتی،جو کہ ڈاکٹر نے صاف بتادیا ہے، میں بیوی کو طلاق نہیں دینا چاہتا،مگر دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں، مگر یہاں کے قانون میں دوسری شادی کی گنجائش نہیں ہے،کیا یہ جائز ہوگا کہ میں صرف سرکاری کاغذات میں بیوی کو طلاق دیدوں اور دوسری شادی کرلوں،مگر اسلامی طلاق نہ دوں،کیا میرے دونوں نکاح محفوظ ہوں گے اس صورت میں ؟
واضح ہوکہ سائل اگر دوسری شادی کرنا چاہتا ہو اور پہلی بیوی کو بھی اپنے نکاح سے علیحدہ نہ کرنا چاہتا ہو اور قانونی مجبوری کی بنا پر طلاق نامہ بنوانا پڑ رہا ہو،جبکہ اس کے علاوہ دوسرا کوئی حل نہ ہو تو اس صورت میں فرضی طلاق نامہ بنوا کر اور اس پر دستخط کرنے سے قبل اگر اس پردو(2) گواہ بنائے جائیں کہ میں حقیقۃً طلاق نہیں دینا چاہتا،البتہ قانونی مجبوری کی بنا پر کاغذی کاروائی پوری کرنے کے لئے میں یہ طلاق نامہ فرضی بنا رہا ہوں،اس کے بعد اگر طلاق نامہ پر دستخط کردے اور زبان سے الفاظِ طلاق نہ بولے تو طلاق واقع نہ ہوگی اور سائل کا مقصد بھی حاصل ہوجائے گا۔
کمافی الشامیة: (قوله أو هازلا) أي فيقع قضاء وديانة(الیٰ قوله)لو أراد به الخبر عن الماضي كذبا لا يقع ديانة، وإن أشهد قبل ذلك لا يقع قضاء أيضا اهـ (3/238)۔