میرا سوال یہ ہے کہ میں اپنی بیٹی کا نام منل ،منال ،مینال رکھنا چاہتا ہوں ان تینوں کے کیا مطلب ہیں اور کیا یہ شرعی اعتبار سے صحیح ہیں ؟
سوال میں مذکور تینوں ناموں کا اصل ایک ہے دراصل یہ لفظ "منال "ہے جس کا معنی ہے حاصل کی ہوئی چیز یا "حاصل کرنے کی جگہ "اور "منل "یا مینال "اس لفظ کی بگڑی ہوئی صورتیں ہیں مذکور نام رکھنے میں اگرچہ شرعاً کوئی حرج نہیں ،تاہم اسلام میں بچوں کے ایسے نا م رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے جو اسلامی ہو نے کے ساتھ اچھے معنی پر بھی دلالت کرے ،چنانچہ ذیل میں چند اچھے نام لکھ دیے گئے ہیں ان میں سے کوئی ایک نام تجویز کر لیں،
خدیجہ،عائشہ،ام کلثوم،فاطمہ،زینب،زینت،زھرہ،طیبہ،اسماء،جویریہ ،رابعہ وغیرہ ۔
کمافی مشکوۃ المصابیح :عن ابی الدرداء رضی اللہ عنه قال قال رسول للہ ﷺ تدعون یوم القیامة باسمائکم واسمائکم آبائکم فاحسنوا اسمائکم اھ (2/408) واللہ اعلم بالصواب