میں پانچ ماہ سے بے روزگار ہوں۔ میری بیوی نے مجھ سے 3 ماہ سے بات کرنا اور ہر قسم کا تعلق چھوڑ دیا ہے۔ میں اب اتنا مجبور ہو گیا ہوں کہ: اُس کو طلاق دیدوں۔ میری شادی کو 24 سال 10 ماہ ہو گئے ہیں۔ آپ مجھ کو مشورہ دیں کہ میں کیا کروں؟
سائل کو چاہیے کہ کوئی ملازمت یا کاروبار کرنا شروع کرے ،جس سے بیوی بچوں کی کفالت جو اس پر واجب ہے کر سکے، جب وہ کفالت کی ذمہ داری پوری کرنے لگے گا، تو ان شاء اللہ بیوی بھی راضی ہو جائیگی۔ جبکہ بیوی کو بھی چاہیے کہ صبر تحمل کے ساتھ شوہر کے ساتھ ان حالات میں تعاون کرے ۔بات چیت بند کر دینا یا ساتھ چھوڑ کر چلے جانا مسئلے کا حل نہیں، بلکہ یہ گناہ ہے ،جس سے احتراز لازم ہے۔
ففي الفقه الإسلامي وأدلته: ويسن لكل من الزوجين تحسين الخلق لصاحبه والرفق به واحتمال أذاه وسوء طباعه، لقوله تعالى: {والصاحب بالجنب} [النساء:36/4] أي الإحسان له اھ (9/ 326)
وفیه ایضا: فإن كان معسرا فلا ظلم منه بعدم الإنفاق، والله تعالى يقول: {لينفق ذو سعة من سعته، ومن قدر عليه رزقه، فلينفق مما آتاه الله ، لا يكلف الله نفسا إلا ما آتاها، سيجعل الله بعد عسر يسرا } اھ (9/ 481)
وفیه ایضا: الحقوق الواجبة بالزوجية: وهي سبعة: الطعام، والإدام، والكسوة، وآلة التنظيف، ومتاع البيت، والسكنى، وخادم إن كانت الزوجة ممن تخدم. وسأبين في المبحث الأول كل واجب من هذه الواجبات اھ(10/ 83)