جب ہمارے محلے کی جامع مسجد کی دوبارہ تعمیر وتوسیع کی جارہی تھی، تو ایک صاحب نے قبلہ کی طرف سے اپنی زیرِ زمین دکانوں کی چھت پر مسجد کو وسعت دی، اب مذکورہ دکانیں کسی اور شخص پر فروخت کی گئی ہیں، قبلہ کی طرف سے تقریباً دو صفوں تک کی جگہ مذکورہ دکانوں کے اوپر ہے اور اس کے پیچھے صفیں پرانی مسجد کی زمین پر واقع ہیں، عام حالات میں پچھلی صفوں کو چھوڑ کر انہیں دو صفوں پر نماز باجماعت ادا ہوتی ہے ، پوچھنا یہ ہے کہ مذکورہ بالا اگلی دو صفیں مسجدِ شرعی کے حکم میں ہیں یا نہیں ؟ ایسی مسجد میں نماز باجماعت کا کیا حکم ہے ؟ کیوں کہ ہم نے سنا ہے کہ مسجد کی زمین پر اوپر نیچے کسی کا قبضہ نہیں ہونا چاہیئے ۔
مذکور دکانیں اگر مسجد کیلئے وقف نہیں ہیں تو ان دکانوں کا بالائی حصہ مسجدِ شرعی کے حکم میں نہیں،اس لئے اگلی دوصفوں میں نماز پڑھنے سے مسجد کا ثواب تو نہیں ملے گا،مگر جماعت کا ثواب حاصل ہوگا۔
کمافی ردالمحتار:قال في البحر: وحاصله أن شرط كونه مسجدا أن يكون سفله وعلوه مسجدا لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالى {وأن المساجد لله} [الجن: 18]- بخلاف ما إذا كان السرداب والعلو موقوفا لمصالح المسجد، فهو كسرداب بيت المقدس هذا هو ظاهر الرواية اھ(4/358)۔
وفی البحر الرائق: (قوله ومن جعل مسجداً تحته سرداب او فوقه بیت وجعل بابه الیٰ الطریق وعزله او اتخذ وسط دارہ مسجداً واذن للناس بالدخول فله بیعه ویورث عنه)لانه لم یخلص للہ تعالیٰ لبقاء حق العبد متعلقاً به (الیٰ قوله) وحاصله ان شرط کونه مسجداً ان یکون سفله وعلوہ مسجداً لینقطع حق العبد عنه اھ(5/251)۔