ہم کمیٹی والے مسجد کو لوگوں کے چندوں سے چلاتے ہیں، کمیٹی کا ایک فرد مسجد کے پاس مدرسہ چلاتا ہے حفظ وناظرہ کے ساتھ عصری تعلیم بھی سکھاتا ہے تین قاریوں کے ساتھ ، اور مدرسہ کا سارا خرچہ مسجد کے فنڈ سے کرتا ہے، کیا شرعی لحاظ سے یہ جائز ہے؟
مذکور مدرسہ اگر مسجد کمیٹی کے زیر نگرانی چل رہا ہو، کمیٹی کے دیگر ممبر ان کی اجازت سے مسجد کے چندہ سے اساتذہ کی تنخواہیں دی جاتی ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں، بلکہ یہ کار ثواب ہے اور تعلیم قرآن کو عام کرنے کی کوشش ہے، جس پر چندہ دینے والے کمیٹی ممبران سب ماجور ہونگے ، تاہم اگر سوال کی نوعیت کچھ اور ہے تو اس کی وضاحت لکھ کر سوال دوبارہ بھیج دیں ان شاء اللہ حکم شرعی سے آگاہ کیا جائے گا۔