حضرت مفتی صاحب! ایک شخص نے جگہ خرید کر کچھ جگہ پر مسجد بنائی کچھ جگہ پر اپنی رہائش، اس کے بعد فوت ہوگیا، وارثوں میں سے ایک باپ کی جگہ زبردستی قابض ہوگیا باقی وارثوں کو مسجد رہائش اور بقیہ جگہ کے قریب نہیں آنے دیتا، سوال یہ ہے کہ باقی وارثوں کو کیا کرنا چاہئے؟ مسجد وقف کریں تاکہ ان کے باپ کو ثواب ملے یا وقف نہ کریں؟ (۲) باقی رہائش اور دیگر جگہ کے بارے میں کیا کریں؟ حقِ وراثت چھوڑدیں تاکہ زبردستی قابض اور اس کی اولاد عیش و عشرت اور مزے کرے اور حقیقی وارث اور ان کی اولاد بھوکی مرے؟ (۳) کیا زبردستی قبضہ کی مسجد میں نماز پڑھنا جائز ہے؟ عام نمازی کے نمازوں کا کیا حکم ہے؟ جواب جلدی دیں اور ہماری مدد کریں۔ شکریہ
مرحوم نے اپنی صحت والی زندگی میں اگر اس جگہ کو باقاعدہ مسجد کے لئے وقف کرکے اس میں مسجد کی تعمیر کی تھی پھر لوگوں کو اس میں نمازوں کی اجازت بھی دی تھی تو یہ شرعاً بھی مسجد بن چکی ہے اب یہ جگہ تا قیامت مسجد ہی رہے گی مرحوم کے ورثاء کیلئے بطورِ وراثت اس مسجد کو اپنے قبضے میں لینا قطعاً جائز نہیں، البتہ مسجد کے متولی بن سکتے ہیں جبکہ مسجد کے علاوہ مرحوم کی جو رہائش کی جگہ اور دیگر جائیدادیں ہیں، اگر وہ مرحوم نے وقف نہیں کی تھیں تو اب یہ مرحوم کے تمام ورثاء کا حق ہے جو سب ورثاء میں حسبِ حصص شرعی تقسیم ہوں گی، کسی ایک وارث کا مرحوم کی تمام جائیداد پر قابض ہوکر باقی ورثاء کو ان کا حصہ نہ دینا ظلم و غصب پر مبنی ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام ہے اس پر لازم ہے کہ تمام ورثاء کو ان کا حصۂ شرعی دیکر مؤاخذۂ دنیوی اور اُخروی سے سبکدوشی حاصل کرے، بصورتِ دیگر اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جاسکتی ہے۔