وضو

اگر قطرے آنے کا شک اور وسوسہ ہو تو کیا کرنا چاہیے ؟

فتوی نمبر :
3484
| تاریخ :
2007-05-09
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

اگر قطرے آنے کا شک اور وسوسہ ہو تو کیا کرنا چاہیے ؟

میرے دوست کو پیشاب کے قطروں کی بیماری ہے، جس کی وجہ سے ہر نماز سے پہلے اس کو یہ خطرہ رہتا ہے کہ ناپاک نہ ہوجائے، لیکن میرے دوست کا مسئلہ یہ ہے کہ کبھی کبھی تو پیشاب کا قطرہ نماز سے پہلے آتا ہے اور کبھی کبھی نہیں آتا اور ایک یا دو نماز کا وقت بھی ہوجاتا ہے، مہربانی فرماکر جلد جواب دیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں مذکور شخص کو اگر نماز سے پہلے پیشاب کرنے سے یہ حالت ہوجاتی ہو تو پیشاب کرنے کے بعد انتظار کرے جب اطمینان ہوجائے کہ اب قطرے نہیں آئیں گے تو استنجاء کرکے وضو کرلے ار پھر نماز ادا کرے، اگر اس دوران قطرے آنے کا محض وہم ہو تو اس کا اعتبار نہ کرے اور اس قسم کے وساوس سے بچنے کیلئے پیشاب کے بعد اگر وہ شلوار کے متعلقہ مقام پر پانی کی چھینٹیں ماردیا کرے تو یہ زیادہ بہتر ہے، الا یہ کہ واقعۃً قطرہ نکل جائے تو پھر از سر نو وضو کرنے کے بعد نماز پڑھے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الهدایة: المعانی الناقضة للوضوء كل ما یخرج من السبیلین. (ج۱، ص۲۲)
وفی الشامیة: لأنه أمر بترك ما یریبه إلی ما لا یربیه، وینبغی أن یقید هذا بغیر الموسوس، أما هو فیلزمه قطع مادة الوسوس عنه وعدم التفاته إلی التشكیك لأنه فعل الشیطان وقد أمرنا بمعاداته ومخالفته رحمتی. (ج۱، ص۱۱۹)
وفیه أیضًا: ولو شك فی نجاسة ماء أو ثوب أو طلاق أو عتق لم یعبتر ج۱، ص۱۵۱)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 3484کی تصدیق کریں
1     1355
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات