السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میں نے گلشن اقبال ( دھمیال) چکری روڈ راولپنڈی میں ایک مکان مع پانچ دکانوں کا سودا کیا ہے، مکان اور دکانوں کے ورثاء میں ایک بیوہ اور پانچ بیٹیاں شامل ہیں، سودا طے کرتے ہوئے میں نے سب کو مبلغ ایک لاکھ روپے فی کس کے حساب سے بیعانہ ادا کیا تھا ؟ باقی ماندہ رقم بھی تحصیل آفس راولپنڈی سے مذکورہ بالا پراپرٹی کے انتقال کے وقت بھی ان کو وصول ہو چکی ہے، ساری رقم ان سب کے بینک اکاؤنٹ میں بھی منتقل ہو چکی ہے ؟ مذکورہ پراپرٹی کی تقسیم کے دوران تین بیٹیوں کو تر کے سے تقریبا دو گنی رقم ملی ہے، کیونکہ ان کا دکانوں میں بھی حصہ تھا جبکہ باقی دو بیٹیوں کو کم رقم ملی ہے مرحوم کی بیوہ یعنی بچیوں کی والدہ چاہتی ہیں کہ وہ اپنے ذاتی حصے کی رقم میں سے ان دو بیٹیوں کی مدد کریں جن کو کم حصہ ملا ہے تاکہ ان کی دلجوئی ہو اور وہ خوش ہو جائیں ؟
سوال : کیا والدہ محترمہ اپنے حصے کی رقم میں سے شرعا کم حصہ پانے والی دو بیٹیوں کو مزید کچھ رقم دے سکتی ہیں یا نہیں؟ برائے مہربانی شریعت کي روشني میں راہ نمائی کرے مشکور فرمائیں؟ جزاک اللہ خیراً!
جی ہاں! والدہ محترمہ اپنے حصے کی رقم میں سے اپنی مذکور بیٹیوں کی مدد کر سکتی ہے ۔