السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
ہم نے اپنے گاؤں کی مسجد کی وسعت کے لئے دوبارہ تعمیر شروع کردی ہے، مسجد کی لکڑی اور دوسری کھدائی وغیرہ کا سامان گاؤں کے ایک آدمی نے بلااجازت استعمال کیا۔
(1):کیا مسجد کا یہ سامان مسجدِ کمیٹی کی اجازت یا بلااجازت کوئی آدمی اپنے کام کے لئے استعمال کرسکتا ہے؟
(2): مسجد کا یہ سامان آدھا ادھورا ٹوٹا ہوا واپس کیا ہے اور مناسب کرایہ بھی دیا ہے، کیا یہ آدمی اس پر مسجدِ حق سے آزاد ہے یا اس پر مسجد کا حق ہے؟
(3): اگر اس آدمی پر مسجد کی ان چیزوں کی واپسی یا اس کا نقصان واپس کرنا ہے تو کیا کمیٹی کو اختیار ہے کہ وہ اس آدمی کو ادھورا سامان پر معاف کرے؟
(4) کیا کسی کمیٹی کے فرد کو مسجد کی چیز کرایہ پر دینے کا حق حاصل ہے؟
نوٹ: مسجد کا کام جاری ہے اور یہ سامان فالتو نہیں، بلکہ کم ہے، جس نے یہ سامان مسجد سے لیا اس نے کسی سے بھی نہیں پوچھا ویسے ہی اٹھا لیا،براہِ مہربانی الگ الگ جواب نمبر وار تحریر فرمائیں۔شکریہ۔
واضح ہوکہ مسجد کی اشیاء مسجد کے لئے وقف ہوتی ہیں، مسجد کے متولی یا کمیٹی کی ملکیت نہیں ہوتی، اس لئے کسی بھی شخص کے لئے کمیٹی کی اجازت کے باوجود بھی مسجد کی کوئی چیز اپنی ذاتی ضروریات کے لئے استعمال کرنا جائز نہیں، تاہم مسجد کی اشیاء کرایہ پر دینے میں اگر مسجد کا فائدہ ہو اور اس معاملہ سے مسجد کا فائدہ ہی مد نظر ہو اور جن کے چندہ سے مسجد کے لئے یہ سامان آیا ہو انہیں بھی کرایہ داری کے معاملہ پر کوئی اعتراض نہ ہو تو مسجد کا سامان کمیٹی کی اجازت سے مناسب ومعقول کرایہ پر دینے کی اجازت ہے، ورنہ مسجد کا سامان صرف ضروریاتِ مسجد میں استعمال کیا جائے، لہذٰا اہلِ محلہ کو چاہیئے کہ مذکور اصولی جواب کے مطابق عمل کریں۔
کما فی الخلاصة: لوعلق قندیلا وبسط حصیراً وبواری فی المسجد واستغنی عنه عادت ھذہ الاشیاء الیٰ ملك صاحبه والصحیح من مذھب ابی یوسف انه لاتعود الیٰ ملك متخذھا بل یتحول الیٰ مسجد آخر او یبعھا قیم المسجد لأجل المسجد اھ(4/424)۔
وفی البحر الرائق: واعلم ان اجارة الوقف لاتجوز إلا باجرة المثل او اکثر فلو آجر الناظر بدون اجرة المثل لاتصح الاجارة ویلزم المستاجر تمام اجر المثل وقد وقع فی الخلاصة عبارة اوھمت ان الناظر یضمن تمام اجر المثل فقال متولی الوقف آجر بدون اجر المثل یلزمه تمام اجر المثل اھ(7/299)۔