مفتی صاحب! ہمارے آفس میں ایک غیر مسلم بروکر دیوالی کی مٹھائی دے گئے ہیں کیا وہ مٹھائی کھائی جاسکتی ہے ؟ اور اگر نہیں تو کسی کو دی جاسکتی ہے؟
ہندو اپنی دیوالی یا کسی مخصوص مذہبی تہوار کے موقع پر اسی مناسبت سے مسلمانوں کو کوئی تحفہ اور گفٹ دیں تو تحفے تحائف کے تبادلہ میں چونکہ ان کے تہوار کی تعظیم کا شائبہ ہے اس لئے اس کا لینا مسلمانوں کے لئے جائز نہیں، البتہ عام حالات میں کسی مذہبی تہوار کے بغیر مسلمانوں کے ساتھ تعاون کریں یا بطور گفٹ کوئی چیز دیں تو اس کے قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں، مگر ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنے سے احتراز لازم ہے۔
ففی الدر: والإعطاء باسم النیروز والمهرجان لا یجوز ای الهدایا باسم هذین الیومین حرام (الٰی قوله) ولو اهدی لمسلم ولم یرد تعظیم الیوم بل جری علی عادة الناس لا یکفر وینبغی ان یفعله قبله او بعده نفیا للشبهة.
وفی الشامیة: تحت قوله (والا عطاء باسم النیروز والمهرجان) بان یقال هدیة هذا الیوم ومثل القول النیة فیها یظهر (الٰی قوله) والاولٰی للمسلمین ان لا یوافقوهم علی مثل هذه الاحوال لاظهار الفرح والسرور. (۶/ ۷۵۴)-