مجھے شادی میں سسرال کی طرف سے جو زیور چڑھایا گیا وہ مجھ سے میری ساس نے لے کر اپنے پاس رکھ لیا، وہ کہتی ہے کہ یہ میرے بیٹے کی ملکیت ہے، اس لیے بحیثیت ماں میری ملکیت ہے اور دینے سے منکر ہے۔ مجھے یہ جاننا ہے کہ وہ زیور جو مجھے چڑھایا گیا تھا وہ میرے شوہر یا ساس کی ملکیت ہے یا میری؟
(نوٹ) فون کے ذریعہ معلوم ہوا ہے کہ یہ زیور سسرال والوں کی طرف سے اس لڑکی کو ہدیہ کے طور پر دیا گیا تھا۔
اگر سائلہ کو اس کی ساس یا شوہر نے بطورِ ہبہ یہ زیور چڑھایا تھا، تو یہ زیوراب مالکانہ طور پر سائلہ کی ملکیت ہے ، ساس کا اسے اپنی تحویل میں لے کر ملکیت کی مدعی ہو جانا درست نہیں۔
كما في الدر المختار: و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح. (الى قوله) أن اللفظ إن أنبأ عن تملك الرقبة فهبة أو المنافع فعارية أو احتمل اعتبر النية نوازل اھ (5/ 689)۔