وضو

جس کو ریح (ہوا)خارخ ہونے کی بیماری ہو اس کے وضو اور نماز کا حکم

فتوی نمبر :
30332
| تاریخ :
2017-03-14
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

جس کو ریح (ہوا)خارخ ہونے کی بیماری ہو اس کے وضو اور نماز کا حکم

میرا مسئلہ یہ ہے کہ میری اکثر نماز کے دوران ریح خارج ہوجاتی ہے اور جس کی وجہ سے مجھے بار بار وضو کرنا پڑتا ہے اور نماز بھی پوری نہیں پڑھ پاتی صرف فرض ہی ادا کرتی ہوں کیونکہ وضو بار بار ٹوٹ جاتا ہے اور رمضان میں تراویح پڑھنا مشکل ہوجاتا ہے، مجھے بار بار وضو کرنا پڑتا ہے، مجھے بتائیں میں نماز پوری پڑھنا چاہتی ہوں لیکن میں کیا کروں؟ شکریہ!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگر اس بیماری کے دوران کسی بھی نماز کے پورے وقت میں عذر کے تسلسل کی وجہ سے سائلہ کو اتنا وقت بھی نہ ملے جس میں وہ کامل طہارت کے ساتھ وقتیہ فرض نماز ادا کرسکے تو اس صورت میں شرعاً وہ معذور کے حکم میں داخل ہوجائے گی اور تفصیل اس حکم کی یہ ہے کہ مثلاً ادائیگیٔ ظہر کیلئے وہ ظہر کے شروع وقت سے اخیر وقت تک انتظار کرے اگر اُسے اس دوران اتنا وقت نہ ملے کہ وہ کامل طہارت کے ساتھ فرض نمازِ ظہر ادا کرسکے تو وہ عصر کا وقت داخل ہونے سے قبل ظہر کے اخیر وقت میں وضو کرکے فقط فرض نماز ظہر کی ادا کرلے اس کے بعد نماز عصر کی ادائیگی کیلئے پورا وقت انتظار کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ نیا وضو کرکے نماز عصر ادا کرلے اس دوران اگر ریح خارج بھی ہوجائے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا اسی طرح مغرب اور عشاء میں بھی وہ ایسا ہی کرلے کہ ہر نماز کیلئے الگ الگ وضو کرلیا کرے اس پورے وقت میں اگر اس کے علاوہ کوئی دوسرا ناقض وضو نہ پایا گیا تو مذکور عذر کے بار بار صادر ہونے سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا، البتہ وقت گزرنے سے وضو ٹوٹ جائے گا۔
البتہ اس دوران اگر پورا وقتِ نماز ایسا گزرجائے کہ اس پورے وقت میں یہ عذر اُسے ایک مرتبہ بھی لاحق نہ ہو تو وہ شرعاً معذور نہیں رہے گی، اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ کر اس کے موافق عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما فی الدّر: (وصاحب عذر من به سلسل) بول لا یمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ریح او استحاضة) او بعینه رمد أو عمش أو غرب وكذا كل ما یخرج بوجع ولو من اذن وشدی وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروة) بأن لا یجد فی جمیع وقتها زمنا یتوضأ ویصلی فیه خالیا عن الحدث (ولو حكما).
وفی الشامیة تحت (قوله أو انفلات ریح) هو من لا یملك جمع مقعدته لاسترخاء فیها نهر. (ج۱، ص۳۰۵)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
ظہورعلی شاہ امیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 30332کی تصدیق کریں
0     472
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات