آصف نے کاشف سے کچھ ذاتی رقم لینی ہے جوکہ کاشف دو سال سے نہیں دے رہا ،جبکہ کاشف کی رقم اور مقاصد کے لیے آصف کے پاس آتی رہتی ہے ،اور جلد دینے کی کوئی امید نہیں ہے، اب مجبوری کی بنا پر آصف کا رقم کاٹنے کا ارادہ ہے، اس کے علاوہ اور کوئی صورت وصولی کی نظر نہیں آرہی، لہذا رہنمائی فرمائیں کہ کیا شرعاً گنجائش ہے؟
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی پر حقیقت ہو،اس میں کسی طرح کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ کاشف باوجود استطاعت کے آصف کی مذکور رقم لوٹانے میں بلاوجہ ٹال مٹول کر رہا ہے اور مطالبہ پر بھی نہیں دے رہا، تو ایسی صورت میں بامر مجبوری آصف ،کاشف کے پیسوں سے اپنی ذاتی رقم کاٹ سکتا ہے، اور اس وجہ سے آصف گناہ گار بھی نہیں ہوگا۔
کما فی رد المحتار: إن عدم جواز الأخذ من خلاف الجنس كان في زمانهم لمطاوعتهم في الحقوق، والفتوى اليوم على جواز الأخذ عند القدرة من أي مال كان لاسيما في ديارنا لمداومتهم العقوق الخ (6/151)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0