السلام علیکم
کیا مسجد کے فنڈ کا پیسہ کسی ایسے بزنس یا کام میں لگایا جاسکتا ہے،جس سے مسجد کے فنڈ میں اضافہ ہو اور فائدہ حاصل ہو،جواب بحوالہ مرحمت فرمائیں
مسجد کے چندے اور فنڈ کو کسی جائز کاروبار میں لگانا اور اس سے نفع حاصل کرنا جائز ہے،بشرطیکہ مسجد کی رقم ڈوبنے اور ضائع ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔
کما فی الھندیة: متولي المسجد إذا اشترى بمال المسجد حانوتا أو دارا ثم باعها جاز إذا كانت له ولاية الشراء، هذه المسألة بناء على مسألة أخرى إن متولي المسجد إذا اشترى من غلة المسجد دارا أو حانوتا فهذه الدار وهذا الحانوت هل تلتحق بالحوانيت الموقوفة على المسجد؟ ومعناه أنه هل تصير وقفا؟ اختلف المشايخ رحمهم الله تعالى قال الصدر الشهيد: المختار أنه لا تلتحق ولكن تصير مستغلا للمسجد كذا في المضمرات اھ(2/417)۔
وفی التاتارخانیة: الفاضل من وقف المسجد ھل یصرف الیٰ الفقراء قیل لایصرف وانه صحیح ولکنه یشتری به مستغلاً للمسجد اھ(5/861)۔