محترم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم!
داڑھی رکھنا سنت سے یا واجب؟ براہ کرم مدلل جواب ارسال کریں کہ میں نے کسی کو جواب دینا ہے، میں نے سنا ہے کہ ہمارے نبی پاک ﷺ ایسے شخص سے منہ پھیر لیتے تھے، جس نے داڑھی نہیں رکھی ہو، کیا یہ صحیح ہے؟
احادیث صحیحہ کی روشنی میں اور باجماع امت داڑھی رکھنا واجب و فرض عملی ہے۔اور داڑھی منڈانا حرام ہے، اسی طرح ایک قبضہ (مٹھی) سے کم ہونے کی صورت میں کتروانا بھی حرام ہے ۔ ائمہ اربعہ حنفیہ، مالکیہ ، شافعیہ اور حنابلہ کا اس پر اتفاق ہے ۔ ذیل میں چند احادیث مبارکہ جن سے داڑھی کا وجوب واضح ہے مع ترجمہ درج کی جارہی ہیں ملاحظہ ہوں جبکہ اس مسئلہ کی تفصیل کے لئے ’’داڑھی کا وجوب‘‘ مؤلفہ مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ، ’’داڑھی کی شرعی حیثیت ‘‘ مولفہ مولانا قاری محمد طیب اور’’ اصلاحی الرسوم ‘‘ مؤلفہ مولانا محمد اشرف علی تھانوی وغیرہ کا مطالعہ مفید رہے گا۔
ففي مشكاة المصابيح: وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " خالفوا المشركين: أوفروا اللحى وأحفوا الشوارب ". و في رواية: «أنهكوا الشوارب وأعفوا اللحى» (2/ 1261)
ترجمہ: ابن عمر (رضی اللہ تعالی عنہ) سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مشرکین کی مخالفت کرو ڈاڑھیاں چھوڑ دو اور مونچھیں خوب کتراؤ۔
و في صحيح مسلم: عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه: «أمر بإحفاء الشوارب، وإعفاء اللحية» اھ (1/ 222)
ترجمہ: ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ہمیں مونچھیں کترانے اور داڑھی رکھنے کا حکم دیا۔
وفيه أیضاً: عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «خالفوا المشركين أحفوا الشوارب، وأوفوا اللحى» اھ (1/ 222)
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نےفرمایا مونچھیں خوب کتراؤ اور داڑھیاں رکھو۔
و في الدر المختار: ولذا يحرم على الرجل قطع لحيته (إلی قوله) وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد، وأخذ كلها فعل يهود الهند ومجوس الأعاجم فتح. (2/ 418) واللہ اعلم بالصواب