کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ان مسائل کے بارے میں کہ :
(۱) اگر ایک شخص نے کچھ رقم جمع کی تھی مسجد میں دینے کیلئے ، لیکن پھر کوئی شخص اس سے کچھ رقم ادھار مانگ لیتا ہے ، تو کیا یہ جائز ہے کہ یہ رقم لی جائے اور اس شخص کو دے دی جائے جو اُدھار مانگ رہا تھا ؟ جس شخص نے وہ رقم جمع کی تھی ، اس کی نیت ہے کہ وہ یہ رقم اس جگہ جمع کردے جہاں جمع کی ہوئی رقم جمع ہوتی ہیں اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
(۲) جب ایک شخص مسلمان ہوتا ہے غیر مسلم سے ، تو اس کو ختنہ کب کروانا چاہئے؟ اور کیا اس کیلئے جائز ہے کہ وہ انہی برتنوں میں کھائے جس میں اس کے والدین جو کہ کافر ہیں، کھاتے ہیں؟
(۳) جب یہ شخص شادی کرنا چاہے تو اس کیلئے بیوی تلاش کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟
(۴) ایک کتا اس گھر میں موجود ہے جس گھر میں یہ شخص ، جو کہ تین سال پہلے مسلمان ہوگیا ہے رہتا ہے، یہ کتا اس کے والدین کا ہے ، یہ شخص اپنے کافر والدین کے ساتھ رہتا ہے ، کیا اس کی اجازت ہے؟ کیا اس کو اپنے والدین کے ساتھ ، جو کہ کافر ہیں رہنے کی اجازت ہے؟ کیا اس شخص کو اس گھر پر جس میں کتا بھی موجود ہے رہنے کی اجازت ہے؟
(۱) مذکورہ رقم ضروریاتِ مسجد کی خاطر ، دوسرے لوگوں سے چندہ وغیرہ کے ذریعہ جمع کی گئی ہو ، تو اس صورت میں یہ رقم اس کے پاس امانت ہے ، جسے وہ نہ اپنے استعمال میں لاسکتا ہے نہ کسی دوسرے کو بطورِ قرض دے سکتا ہے ، اور اگر کسی ضرورت مند کو بطورِ قرض دے دی ، تو اس طرح دینے کی وجہ سے اگر کچھ رقم یا پوری رقم ضائع ہوجائے ، تو امانت میں تعدی پائے جانے کی وجہ سے شخصِ مذکور ’’خزانچی‘‘ اس پوری رقم کا ضامن ہوگا۔
(۲) ختنہ کرانا شعائرِ اسلام اور سنتِ ابراہیمی ہے ، جس کا پورا کرنا لازم ہے ، البتہ مذکور نو مسلم ساتھی اگر عاقل و بالغ ہوں ، تو ان کیلئے بہتر یہ ہے کہ وہ خود اپنا ختنہ کرلے ، ورنہ ڈاکٹر کے سامنے بھی بقدرِ ضرورت ستر کھولنے کی گنجائش ہے۔اسی طرح جن برتنوں میں اس کے غیر مسلم عزیز و اقارب کھانا وغیرہ کھائیں ، انہیں پاک و صاف کرکے اُن میں کسی مسلمان کا کھانا پینا وغیرہ بھی جائز اور درست ہے۔
(۳) اوّلاً تو والدین کی ذمہ داری ہے کہ اولاد کے بالغ ہونے کے بعد اس کیلئے مناسب اور دیندار رشتہ تلاش کریں اور اگر وہ اپنی ذمہ داری کا احساس نہ کرتے ہوں اور سائل ان سے علیحدہ ہوکر بھی اپنی شادی کا انتظام کرسکتا ہو تو شرعاً اس کی بھی گنجائش ہے۔
(۴) آپ اپنے والدین کے ساتھ رہائش اختیار کرسکتے ہیں ، اسی طرح ان کا ادب و احترام بھی اس وقت تک لازم اور ضروری ہے جب تک وہ آپ کو کسی غیر شرعی کام کیلئے مجبور نہ کریں ، اسی طرح مذکور کتا بھی جب آپ کے والدین نے پالا ہوا ہے اور آپ اس کو پسند بھی نہیں کرتے تو آپ کیلئے اس گھر میں رہنے کی شرعاً بھی اجازت ہے۔
(۱) فی الہندیۃ : إذا كان عند رجل وديعة دراهم أو دنانير أو شيء من المكيل أو الموزون و أنفق شيئا منها في حاجته حتى صار ضامنا لما أنفق لا يصير ضامنا لما بقي اھـ (ج۴، ص۳۴۸)۔
(۲) فی الدر المختار : ’’ینظر الطبیب إلٰی موضع مرضہا بقدر الضرورۃ اذا الضرورات تتقد بقدرہا و کذا نظر قابلۃ و ختان۔ (ج۶، ص۳۱۸)۔
و فی الشامیۃ : و ذکر فی الہدایۃ الخافظۃ ایضًا لان الختان سنۃ للرجال من جملۃ الفطرۃ لا یمکن ترکہا۔ اھـ (ج۶، ص۳۷۱)
فی الہندیۃ : قال محمدؒ و یکرہ الأکل و الشرب فی أوانی المشرکین قبل الغسل و مع ہذا لو أکل أو شرب فیہا قبل الغسل جاز و لا یکون اٰکلًا و شاربا حراما و ہذا اذا لم یعلم بنجاسۃ الأوانی فاذا علم فانّہ لا یجوز أن یشرب و یأکل منہا قبل الغسل و لو شرب أو اکل کان شارباً وَ اٰکلًا حراماً۔ اھـ (ج۵، ص۳۴۷)۔
(۳) فی مشکوٰۃ المصابیح : عن ابی سعیدؓ و ابن عباسؓ قالا قال رسول اﷲ من ولد لہ ولد فلیحسن اسمہ و ادبّہ فاذا بلغ فلیزوجہ فان بلغ و لم یزوجہ فاصاب اثمًا فانما اثمہ علٰی ابیہ۔اھـ (ص۲۷۱)۔
(۴) فی المشکوٰۃ : عن ابی طلحۃؓ قال قال النبی ﷺ لا تدخل الملائکۃ بیتًا فیہ کلب و لا تصاویر متفق علیہ۔اھـ(ص۳۸۵)۔