کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی قبلہ کی طرف پاؤں کرکے بیٹھتا ہے، میں ہر وقت منع کرتا ہوں ،وہ نہیں مانتا اور کہتا ہے کہ اس بارے میں کوئی نص وارد نہیں ہوئی ہے، کیا اس آدمی کا اعتراض صحیح ہے؟ بینوا توجروا!
اگر کوئی شخص محض بے خیالی میں کبھی قبلہ رُخ ٹانگیں پھیلادے تو اس کا یہ عمل مکروہِ تنزیہی ہے مگر قبلہ رُخ ٹانگیں پھیلانے کو عادت بنالینا اور قصداً ایسا کرنا سخت بے ادبی اور گناہ کی بات ہے جس سے احتراز لازم ہے، لہٰذا شخصِ مذکور کو چاہئے کہ اپنے مذکورہ رویہّ سے احتراز کرے کیونکہ صغیرہ گناہ بھی بار بار کے اصرار کرنے سے کبیرہ گناہ کے حکم میں ہوجاتا ہے۔
فی رد المختار: (وکذا مد رجلہ إلیہا) ہی کراہۃ تنزیہیۃ ولکن قال الرحمتی: سیأتی فی کتاب الشہادات أنہ بمد الرجل إلیہا ترد شہادتہ، وہذا یقتضی التحریم فلیحرر۔ اھـ (ج۱، ص۳۴۲)-
وفی تقریرات الرافعی: وہذا یقتضی التحریم فلیحرر: ما سیأتی محمول علٰی ما اذا اعتاد مد الرجل إلیہا فلا تقبل شہادتہ لأن الصغیرۃ تکون کبیرۃ بالمداومۃ۔ اھـ (ج۱، ص۴۲)-