دین ابراہیم اور دین اسلام کے بولنے اور سمجھنے میں کوئی فرق ہے؟
سائل کا سوال مکمل طور پر واضح نہیں کہ وہ دین اسلام اور دین ابراہیم کے بولنے اور سمجھنے میں فرق کے متعلق کیا معلوم کرنا چاہتا ہے،تاہم ملت ابراہیمی اور دین اسلام کے بنیادی عقائد و نظریات چونکہ متحد ہیں اس لئے اس حیثیت سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔
کما فی تفسیر المنار: و جملہ القول ان دین اللہ تعالی علی السنہ انبیائہ واحد فی اصولہ و مقاصدہ و ھی توحید اللہ و تنزیہہ و اثبات صفاتہ الکمال لہ و الاخلاء لہ فی الاعمال و الایمان بالیوم الاخر و الاستعداد لہ بالعمل الصالح و اما الشرائع فھی مختلفہ(الی قولہ) وَمَا قَالَ مَنْ قَالَ: إِنَّ شَرْعَ مَنْ قَبْلَنَا شَرْعٌ لَنَا، إِلَّا لِعَدَمِ التَّفْرِقَةِ بَيْنَ أَصْلِ الدِّينِ وَالْمِلَّةِ، وَبَيْنَ الشَّرِيعَةِ ; لِأَنَّ الْجُمْهُورَ يَسْتَعْمِلُونَ هَذِهِ الْأَلْفَاظَ اسْتِعْمَالَ الْمُتَرَادِفَاتِ، وَالتَّحْقِيقُ الْفَرْقُ - كَمَا قَالَ قَتَادَةَ - وَعَرَفْتَ تَفْصِيلَهُ.(6/345)