جو مسجد زیر تعمیر ہو اور اس میں نمازیں بھی پڑھی جاتی ہوں ، تو ایسی مسجد کی دیواروں پرکپڑے دھوکر کھڑے کرنا کیسا عمل ہے ؟
واضح ہوکہ مسجدکی دیواروں پراگرچہ وہ مسجدزیرتعمیرہی کیوں نہ ہو،کپڑےدھوکرسوکھنےکےلئےلٹکانایااپنی ذاتی کسی دوسری غرض کےلئےمسجدکی دیواروں کواستعمال میں لاناجائزنہیں،جس سےاحترازلازم ہے۔
کما فی ردالمحتار تحت(قولہ: بالفعل) (الی قولہ) وبالصلاۃ بجماعۃ یقع التسلیم بلاخلاف حتی انہ اذا بنی مسجدا واذن للناس بالصلاۃ فیہ جماعۃ فانہ یصیر مسجدا الخ(ج4 صـ356)۔
وفیہ ایضاً: تحت (قولہ: ولو علی جدار مسجد)مع انہ لم یأخذ من ھواء المسجد شیئا اھ ط ونقل فی البحر قبلہ ولایوضع الجذع علی جدار المسجد وان کان من اوقافہ قلت وبہ علم حکم مایصنعہ بعض جیران المسجد من وضع جذوع علی جدارہ فانہ لایحل ولو دفع الاجرۃ الخ (ج4 صـ358 کتاب الوقف ط: ایچ ایم سعید)۔