ایک گاؤں میں ایک قدیم مسجد ۶۰ سال سے ہے اور وہ مسجد بالکل گاؤں کے شاہی راستے کے قریب ہے ، اس راستے سے بڑا ٹریکٹر ، ٹرالی یا بڑی گاڑی گزر نہیں سکتی ، کیونکہ جب بھی گزرنے کی کوشش کرتی ہے , تو مسجد کا ایک کنارہ ٹوٹ جاتا ہے اور اب اس مسجد کو شہید کرکے نیا کام کروانے کا ارادہ ہے , اب اس مسجد کے کونے کو مسجد سے جدا کرکے راستے میں تین یا چار فٹ کا راستہ دینا چاہتے ہیں , تو کیا یہ جائز ہوگا کہ صرف کونے سے راستہ دیا جائے؟ گاؤں والوں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے جب کوئی بڑی گاڑی پر ضروری سامان لے کر آنا ہو ,تو تقریباً ۴۰۰ مکان ہیں جو اس راستے کی پریشانی میں ہیں، اس حوالے سے شریعت کا کیا حکم ہے؟
مسجد کے کسی حصہ کو بلا ضرورت راستہ بنانا جائز نہیں البتہ مذکور گاؤں والوں کو اس راستے کی تنگی کی وجہ سے گزرنے میں اگر واقعۃً تکلیف ہو اور جانبِ مخالف میں راستہ کشادہ کرنے کی گنجائش نہ ہو تو بامرِ مجبوری ضرورت کی بنا پر مسجد کا کچھ حصہ لوگوں کی سہولت کی خاطر رستے میں شامل کرنے کی گنجائش ہے۔
فی الدر المختار : کعکسہ ای کجواز عکسہ و ہو إذا جعل فی المسجد مَمَرّ لتعارف الأمصار فی الجوامع و جاز لکل أحد أن یمر فیہ حتی الکافر إلا الجنب و الحائض و الدواب زیلعی۔ الخ (ج۴، ص۳۷۸)۔
و فی الشامیۃ : و قد علمت ترجیح خلافہ و ہو جواز جعل شئی منہ مسجدًا و تسقط حرمۃ المرور فیہ لضرورۃ لکن لا تسقط عنہ جمیع احکام المسجد۔ (ج۴، ص۳۷۹) واللہ اعلم