ایک صاحب کا کہنا کہ ریح کے خارج ہونے پر وضو ٹوٹتا ہے وضو کرنا پڑے گا، جبکہ آواز کے ساتھ ریح خارج ہونے پر استنجا بھی کرنا پڑے گا شریعت کے مطابق روشنی ڈالیے۔
ریح چاہے آواز کے ساتھ خارج ہو یا بغیر آواز کے، اس کے بعد استنجاء کرنا ضروری نہیں وضو کرلینا ہی کافی ہے۔ سوال میں مذکور صاحب کی بات درست نہیں، کیونکہ فقہاءِ کرام نے خروجِ ریح کے بعد استنجاء کو مکروہ لکھا ہے۔
ففی الشامیة: تحت (قوله فلا یسن) لأن بخروج الریح لا یكون علی السبیل شیئٌ فلا لیس منه بل هو بدعة اھ (۱/۳۳۵)