مفتی صاحب کیا یہ کہنا کہ میری بیوی نے مجھے بہت سال سےتنگ کیا ہوا ہے، میں بھی اسے ایک سال تنگ کر کے طلاق دے دوں گا، اور اپنی بہن کو یہ کہنا کہ آپ میری اُس سے جان چھڑ اؤ ،مطلب کہ اس کے گھر یہ بتا دے کہ وہ طلاق کا مطالبہ کرے مجھ سے، کیا اس وجہ سے طلاق ہو جاتی ہے ؟ اسی طرح دل دل میں یہ خیال آتے رہنا کہ طلاق دے دوں ،طلاق دے دوں گا ؟
سوال میں مذکور الفاظ اور طلاق کے خیالات آنے کی وجہ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ اسلئے بلاوجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں مگر آئندہ طلاق کے الفاظ استعمال کرنے سے احتراز لازم ہے۔
وفی مشکاۃ المصابیح: عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الله تعالى تجاوز عن أمتي ما وسوست به صدورها ما لم تعمل به أو تتكلم»(1/ 26)
وفی الفقہ الاسلامی: اتفق الفقهاء على أن الطلاق لا يقع بالنية من غير لفظ الخ(9/ 6909)