میں ایک مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں کیا قرعہ اندازی کرنا جائز ہے؟ میرے ہاں بیٹی ہوئی تھی، اس کا نام رکھنے میں مجھے مشکل پیش آئی، اور مسجد میں نفل، تلاوت اور ذکر واذکار کے ساتھ قرعہ اندازی کے ذریعے جونام آیا وہ رکھ لیا، اسی طرح میں نے اپنی جاب کا شعبہ چینج کرنے کے لئے مسجد میں قرعہ اندازی کی، کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
مذکور امور کیلئے قرعہ اندازی اگرچہ جائز ہے، مگر شعبہ چینج کرنا بہتر ہے یا نہیں؟ اس کے لئے شریعت نے استخارہ کا طریقہ بتایا ہے۔
کما فی رد المحتار: تحت (قوله: ومنها ركعتا الاستخارة) عن «جابر بن عبد الله قال: كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يعلمنا الاستخارة في الأمور كلها كما يعلمنا السورة من القرآن يقول إذا هم أحدكم بالأمر فليركع ركعتين من غير الفريضة، ثم ليقل: اللهم إني أستخيرك بعلمك، وأستقدرك بقدرتك، وأسألك من فضلك العظيم الخ (ج2 صـ26 ط: دار الفکر9۔