میرا سوال یہ ہے کہ اگر پیچھے کے راستے سے ریح خارج نہ ہو اور صرف ایسا محسوس ہو کہ ایک بلبلہ سا نکلا ہے،جس سے وضو ٹوٹنے میں شک ہوجائے،کیونکہ وہ بہت ہی معمولی ہو جس کا ریح ہونے میں ہی شک ہو ، جس طرح ہوا خارج ہوتی ہے اسی طرح نہ ہو، تو کیا اس سے وضو ٹوٹ جائے گا اور نماز بھی ؟ اس طرح ہونے کی صورت میں کوئی وضو ٹوٹنے کا معیار ہو تو عرض کردیں۔
جب تک ریح خارج ہونے کی آواز ، بو یا خروجِ ریح کے احساس کے ذریعہ یقین نہ ہو جائے تو محض شک کی بناء پر وضو نہیں ٹوٹتا ۔
کما فی الدر المختار: حتى لو خرج ريح من الدبر وهو يعلم أنه لم يكن من الأعلى فهو اختلاع فلا ينقض الخ
وفی رد المحتار: (قوله: وهو يعلم) أي يظن لأن الظن كاف في هذا الباب ح أي الظن الغالب (الیٰ قوله) وفي المنح عن الخلاصة: مناط النقض العلم بكونه من الأعلى فلا نقض مع الاشتباه، وهو موافق للفقه والحديث الصحيح «حتى يسمع صوتا أو يشم ريحا» وبه يعلم أنه من الأعلى اھ (1/136)۔