میرا آپ سے یہ سوال ہے۔ کہ اگر شوہر غصہ میں آکر اپنی بیوی کو یہ کہہ دیں کہ ’’تم میری طرف سے فارغ ہو، تمہارا میرا کوئی رشتہ نہیں ہے، تم میری بیوی نہیں ہو،تم مر گئی ہو میرے لیے ‘‘ تو کیا یہ سب کہنے سے میاں بیوی کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے ۔ معنی یہ کہ طلاق ہو جاتی ہے۔ حالانکہ نیت نہ ہو یہ سب کہنے کی صرف وجہ غصہ میں آنا ہو۔
” فارغ " کا لفظ عند القرینہ طلاق صریح بائن کیلئے مستعمل ہے ۔ لہذا جب سائل نے پہلی مرتبہ یہ جملہ استعمال کیا کہ” تم میری طرف سےفارغ ہو “ تو اس سے اسکی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو کر ان دونوں کے درمیان عقد نکاح ختم ہو چکا ہے۔ الا یہ کہ میاں بیوی دونوں دوباره با ہم ازدواجی حیثیت سے اکھٹے رہنے پر رضا مند ہوں تو نئے حق مہر کے ساتھ گواہان کی موجودگی میں دوبارہ باہم عقد نکاح کیا جا سکتا ہے ۔ ورنہ عورت ایام عدت کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسرے مسلمان مرد کے ساتھ عقد نکاح کرنے میں شرعا آزاد ہے ۔
کمافی الدرالمختار: ونحو اعتدي واستبرئي رحمك، أنت واحدة، أنت حرة، اختاري أمرك بيدك سرحتك، فارقتك لا يحتمل السب والرد(الی قوله) (وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية لأنها أقوى لكونها ظاهرة، والنية باطنة(3/302)