میرے بیٹے کا نام محمد فاتر خان ہے وہ اکثر بیمار رہتا ہے ،گھر والے کہتے ہیں کہ اس کا نام تبدیل کردو یہ ٹھیک ہو جائے گا،آپ مجھے شرعی لحاظ سے بتائیں کیا یہ ٹھیک ہے یا نہیں ؟
اگرچہ مذکور نام رکھنے کی بھی گنجائش ہے تاہم اگر بدلنا ہی مقصود ہو تو عبداللہ ،عبدالرحمن،عبید اللہ نعمان،فرحان،طلحہ،علی ،ابوبکر،عثمان،لقمان،حسان ،یا عکاشہ ،یا محمد نام رکھ لیاجائےالبتہ یہ محض توہم پرستی ہے کہ نام کی وجہ سے بیماریاں وغیرہ آتی ہیں،ایسی کوئی بات نہیں یہ غیر اسلامی باتیں ہیں ان سے احتراز چاہیئے ۔
کمافی الصحیح لمسلم :عن ابن عمر ان رسول اللہ ﷺ غیر اسم عاصیة وقال انت جمیلة (2/208) واللہ اعلم بالصواب